ہر قانون نے آ کر دیکھے میرے تن کے گھاؤ
میرے خون میں تیر رہی ہے ہر منصف کی ناؤ
کون یہ سچائی، انصاف، محبت بیچنے آیا
خالی جیبوں والے آ کر پوچھ رہے ہیں بھاؤ
پیاسے مرنے والوں کے ہونٹوں تک کوئی نہ پہنچے
گورکنوں کے شہر میں رہنا، کچھ آسان نہیں
رہنا ہے تو کفن پہن کر قبروں میں سو جاؤ
بڑھتے اندھیروں پر جب بھی تنقید کیا کرتا ہوں
رات کی چھت پر چڑھ کر تارے کرتے ہیں پتھراؤ
تہذیبوں کے سائے میں ظلم بھی کرتا رہا ترقی
یکساں رہاں ہے دونوں سے ہر لمحے کا برتاؤ
جاتی ہوئی لہروں کے ساتھ مظفرؔ جانا ہو گا
پار اتارے گی اب تم کو ڈوبنے والی ناؤ
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment