Wednesday, 11 November 2015

مری خوشبوؤں سے نہ بچ سکا مرے سر پہ آگ اچھال کر

مِری خوشبوؤں سے نہ بچ سکا مِرے سر پہ آگ اچھال کر
وہ اسیر خود مِرا ہو گیا، مجھے اپنی قید میں ڈال کر
مِرے خواب بھی، مِرے رت جگے سفرِ حیات بھی یوں لگے
کسی خفیہ راہ سے جس طرح کوئی لے چلا ہے نکال کے
جو تِرا سخن تِرے ساتھ ہے، مِرے منہ پہ کیوں تِرا ہاتھ ہے
میں جواب جس کا نہ دے سکوں، کوئی ایسا مجھ سے سوال کر 
تِرے اس نمائشی حسن سے مِرے آئینے بھی چٹخ گئے
مجھے اور کچھ نہیں چاہیے، مِرا اعتماد بحال کر
مِری زندگی ہے وہ آئینہ، کوئی شکل جس میں سجائی ہو
مجھے ٹوٹ جانے کا شوق ہے وہ رکھے رکھے سنبھال سنبھال کر

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment