Wednesday, 11 November 2015

باغی حرف و لب سر پھرا بے ادب نام شاعر کا ہے

باغی حرف و لب سر پھرا بے ادب نام شاعر کا ہے
تلخیاں چاٹنا، لذتیں بانٹنا، کام شاعر کا ہے
پیاس پیتا رہے، زخم سیتا رہے، مر کے جیتا رہے
کاسۂ زہرِ غم، حلقۂ چشمِ نم، جام شاعر کا ہے
کرے شام و سحر، رہگزر رہگزر بے ارادہ سفر
خوشبوئیں رنگ، سائے دھواں، دھوپ احرام شاعر کا ہے
سلسلے پیار کے، حوصلے ہار کے، ڈھیر اشعار کے
یہ اثاثہ مظفرؔ ہے شاعر کا، انجام شاعر کا ہے

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment