میرے مطلوب و مدعا، تُو جا
تجھ سے مطلب نہیں ہے جا، تُو جا
ہو گیا ہوں میں تیری ذات میں گم
اب میں تیرا نہیں رہا، تُو جا
اب تِری بات تیری حد میں نہیں
جانے میں کب کا آ چکا خود میں
جانے تُو کب کا جا چکا، تُو جا
ہے مجھے تیری جستجو کرنا
تُو عجب آدمی لگا، تُو جا
آپ اپنے سے کر کے اپنا سخن
چھِل گیا ہے مِرا گلا، تُو جا
مجھ کو تیری تلاش کرنا ہے
لے میاں! خود سے میں چلا، تُو جا
تُو جو ہے، میرا چارہ گر ہے تو
میں پیوں گا الا بلا، تُو جا
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment