Tuesday, 10 November 2015

کر لیا خود کو جو تنہا میں نے

کر لیا خود کو جو تنہا میں نے
یہ ہنر کس کو دکھایا میں نے
وہ جو تھا اس کو مِلا کیا مجھ سے
اس کو تو خواب ہی سمجھا میں نے
دل جلانا کوئی حاصل تو نہ تھا
آخرِ کار کیا کیا میں نے
دیکھ کر اس کو ہوا مست ایسا
پھر کبھی اس کو نہ دیکھا میں نے
شوقِ منزل تھا بلاتا مجھ کو
راستہ تک نہیں ڈھونڈا میں نے
اک پلک تجھ سے گزر کر، تا عمر
خود تِرا وقت گزارا میں نے
اب کھڑا سوچ رہا ہوں لوگو
کیوں کیا تم کو اکھٹا میں نے

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment