Tuesday, 10 November 2015

سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں

سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
نام کو بھی اب اِضطراب نہیں
خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں
اِک کتابِ وجود ہے تو صحیح
شاید اس میں دعا کا باب نہیں
تُو جو پڑھتا ہے بو علی کی کتاب
کیا یہ عالم کوئی کتاب نہیں
ہم کتابی صدا کے ہیں، لیکن
حسبِ منشا کوئی کتاب نہیں
بھول جانا نہیں گناہ اسے
یاد کرنا اسے ثواب نہیں
پڑھ لیا اس کی یاد کا نسخہ
اس میں شہرت کا کوئی باب نہیں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment