بد مست ہو کے اے نگہِ ناز دیکھنا
پھر میری لغزشوں کے بھی انداز
ترکِ نیازِ عشق کا اعجاز دیکھنا
سُونی پڑی ہے انجمنِ ناز دیکھنا
سوز و گداز نغمۂ بے ساز دیکھنا
ان کی حریمِ ناز کے پردوں کو چھو لیا
میری نظر کی جرأتِ آغاز دیکھنا
یوں دیکھتی ہے جیسے نہیں دیکھتی نظر
ظالم کے دیکھنے کے یہ انداز دیکھنا
بت خانۂ جمال میں آئے تو ہو شکیلؔ
آساں نہیں ہے حسنِ خدا ساز دیکھنا
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment