Tuesday, 10 November 2015

شکوہ اضطراب کون کرے

شکوۂ اضطراب کون کرے
اپنی دنیا خراب کون کرے
گِن تو لیتے ہیں انگلیوں پہ گناہ
رحمتوں کا حساب کون کرے
عشق کی تلخ کامیوں کے نثار
زندگی کامیاب کون کرے
ہم سے میکش جو توبہ کر بیٹھیں
پھر کارِ ثواب کون کرے
غرقِ جام و شراب ہو کے شکیل
شغلِ جام و شراب کون کرے
شکیل بدایونی​

No comments:

Post a Comment