میں اک نگہ کی روشنی میں اتنی دور تک گئی
غبارِ ہجر چھٹ گیا، شبِ فراق تھک گئی
ستارۂ سفر کو دیکھنے کا ہوش ہی نہ تھا
وہ آنچ ہی کچھ اور تھی جو شہرِ جاں تلک گئی
اٹی ہوئی تھی دھوپ سے جو رہگزر تھی سامنے
وہ خواب رُت وہ دِیپ لَو نہیں کبھی بجھی نہیں
نئے غموں کی آنکھ سے وہ روشنی چھلک
جو میری ہم سفر رہی وہ میری زندگی نہ تھی
وہ میری بے بسی نہ تھی جو راہ میں بھٹک گئی
حیاتِ آفریں! مِری حیات تجھ پہ قرض ہے
میں آرزو تھی اور دشتِ ہول میں بھٹک گئی
سنا ہے راس آ گئیں ہوائیں زخم زخم کو
سنا ہے اب کے موسموں دلوں سے ہر کسک گئی
کچھ اس خلوص سے فریبِ زندگی کمائے ہیں
کہ اپنے سامنے اداؔ، نِگہ جھپک جھپک گئی
ادا جعفری
No comments:
Post a Comment