Friday, 13 November 2015

یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں

یہی نہیں کہ زخمِ جاں کو چارہ جُو مِلا نہیں
یہ حال تھا کہ دل کو اسمِ آرزو مِلا نہیں
ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے
وہ رہگزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تُو مِلا نہیں
تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھُلا
کبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سُو مِلا نہیں
وہ جیسے اِک خیال تھا جو زندگی پہ چھا گیا
رفاقتیں تھیں اور یوں، کہ رُوبرُو مِلا نہیں
تمام آئینوں میں عکس تھے مِری نگاہ کے 
بھرے نگر میں ایک بھی مجھے عدُو مِلا نہیں
وراثتوں کے ہاتھ میں جو اِک کتاب تھی مِلی
کتاب میں جو حرف ہے ستارہ خُو مِلا نہیں
وہ کیسی آس تھی اداؔ جو کُو بکُو لیے پھِری 
وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھُو مِلا نہیں 

ادا جعفری

No comments:

Post a Comment