راستہ روک رہی ہو جیسے
یاد راہوں میں کھڑی ہو جیسے
نکہتِ موجۂ گل یوں آئے
بھید سا کھول رہی ہو جیسے
اٹھتے اٹھتے کوئی محبوب نگاہ
یا کسی خواب نے آنکھیں کھولیں
یا عبادت کی گھڑی ہو جیسے
گھر کے آنگن میں نہ اترے سورج
رات گھبرا سی گئی ہو جیسے ہو جیسے
وہ جو دیوار میں چنوائی گئی
کوئے جاناں کو چلی ہو جیسے
وہ جو گیتوں کی دھڑکتی لو تھی
شعلۂ جاں میں ڈھلی ہو جیسے
قرض تھا حرفِ تمنا کس پر
زندگی پوچھ رہی ہو جیسے
ہم جسے سنگِ گراں سمجھے تھے
اپنی ہی سادہ دلی ہو جیسے
پھر شرارہ کوئی ارزاں ہو گا
راکھ پلکوں پہ جمی ہو جیسے
مہرباں چشمِ گہر بار اداؔ
اور کسی شے کی کمی ہو جیسے
ادا جعفری
No comments:
Post a Comment