Friday, 13 November 2015

راستہ روک رہی ہو جیسے

راستہ روک رہی ہو جیسے
یاد راہوں میں کھڑی ہو جیسے
نکہتِ موجۂ گل یوں آئے
بھید سا کھول رہی ہو جیسے
اٹھتے اٹھتے کوئی محبوب نگاہ
اپنے سائے سے ڈری ہو جیسے
یا کسی خواب نے آنکھیں کھولیں
یا عبادت کی گھڑی ہو جیسے
گھر کے آنگن میں نہ اترے سورج
رات گھبرا سی گئی ہو جیسے ہو جیسے
وہ جو دیوار میں چنوائی گئی
کوئے جاناں کو چلی ہو جیسے 
وہ جو گیتوں کی دھڑکتی لو تھی
شعلۂ جاں میں ڈھلی ہو جیسے
قرض تھا حرفِ تمنا کس پر
زندگی پوچھ رہی ہو جیسے
ہم جسے سنگِ گراں سمجھے تھے
اپنی ہی سادہ دلی ہو جیسے
پھر شرارہ کوئی ارزاں ہو گا
راکھ پلکوں پہ جمی ہو جیسے
مہرباں چشمِ گہر بار اداؔ
اور کسی شے کی کمی ہو جیسے

ادا جعفری

No comments:

Post a Comment