Friday, 13 November 2015

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
راہ میں سنگِ وفا تھا شاید
اک ہتھیلی پہ دِیا ہے اب تک
ایک سورج نہ بجھا تھا شاید
اس قدر تیز ہوا کے جھونکے
شاخ پر پھول کھِلا تھا شاید
لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے
وہم سا دل کو ہوا تھا شاید
خونِ دل میں تو ڈبویا تھا قلم
اور پھر کچھ بھی نہ لکھا تھا شاید
تجھ کو بھُولے تو دعا تک بھُولے
اور وہی وقتِ دعا تھا شاید
موجۂ رنگ بیاباں سے چلا
یا کوئی آبلہ پا تھا شاید
رت کا ہر آن بدلتا لہجہ
ہم سے کچھ پوچھ رہا تھا شاید
کوئی اداؔ کوئی گریزاں لمحہ
شعر سننے کو رکا تھا شاید

ادا جعفری

No comments:

Post a Comment