Friday, 13 November 2015

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں
زہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیں
تجھ کو آواز دیں یہ تاب کہاں
ہم خود اپنی صدا سے ڈرتے ہیں
زاہدوں کو کسی کا خوف نہیں
صرف کالی گھٹا سے ڈرتے ہیں
آپ جوبھی کہیں، ہمیں منظور
نیک بندے خدا سے ڈرتے ہیں
شعلۂ آشیاں کی فکر نہیں
ہم تو موجِ ہوا سے ڈرتے ہیں
دشمنوں کے ستم کا خوف نہیں
دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں
عزم و ہمت کے باوجود شکیل
عشق کی ابتدأ سے ڈرتے ہیں

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment