Thursday, 7 January 2016

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تو کون ہے میں کیا ہوں

کیا یہ بھی میں بتلا دوں تُو کون ہے، میں کیا ہوں
تُو جان تماشا ہے، میں محو تماشا ہوں
تُو باعث ہستی ہے، میں حاصل ہستی ہوں
تُو خالق الفت ہے اور میں تیرا بندہ ہوں
جب تک نہ ملا تھا تُو، اے فتنۂ دو عالم
جب درد سے غافل تھا، اب درد کی دنیا ہوں
کچھ فرق نہیں تجھ میں اور مجھ میں کوئی، لیکن
تُو اور کسی کا ہے، بے درد میں تیرا ہوں
مدت ہوئی کھو بیٹھا سرمایۂ تسکیں میں
اب تو تیری فرقت میں دن رات تڑپتا ہوں
ارماں نہیں کوئی گو دل میں مِرے، لیکن
الله ری مجبوری، مجبور تمنا ہوں
بہزادؔ حزیں مجھ پر اک کیف سا طاری ہے
اب مِرا یہ عالم ہے، ہنستا ہوں نہ روتا ہوں

بہزاد لکھنوی

No comments:

Post a Comment