Thursday, 7 January 2016

نہ تاب مستی نہ ہوش ہستی کہ شکر نعمت ادا کریں گے

نہ تاب مستی نہ ہوش ہستی کہ شکر نعمت ادا کریں گے
خزاں میں جب ہے یہ اپنا عالم، بہار آئی تو کیا کریں گے
ہر ایک غم کو فروغ دے کر یہاں تک آراستہ کریں گے
وہی جو رہتے ہیں دور ہم سے، خود اپنی آغوش وا کریں گے
جدھر سے گزریں گے سرفروشانہ کارنامے سنا کریں گے
وہ اپنے دل کو ہزار روکیں مِری محبت کو کیا کریں گے
نہ شکرِ غم زیر لب کریں گے، نہ شکوۂ برملا کریں گے
جو ہم پہ گزرے گی دل ہی دل میں کہا کریں گے سنا کریں گے
یہ ظاہری جلوہ ہائے رنگیں فریب کب تک دیا کریں گے
نظر کی جو کر سکے نہ تسکیں وہ دل کی تسکین کیا کریں گے
وہاں بھی آہیں بھرا کریں گے، وہاں بھی نالے کیا کریں گے
جنہیں ہے تجھ سے ہی صرف نسبت وہ تیری جنت کو کیا کریں گے
نہیں ہے جن کو مجالِ ہستی سوائے اس کے وہ کیا کریں گے
کہ جس زمیں کے ہیں بسنے والے اسی کو رسوا کیا کریں گے
ہم اپنی کیوں طرز فکر چھوڑیں ہم اپنی کیوں وضع خاص بدلیں
کہ انقلابات نو بہ نو تو ہوا کیے ہیں، ہوا کریں گے

جگر مراد آبادی

No comments:

Post a Comment