کہاں ہو تم، چلے آؤ، محبت کا تقاضا ہے
غمِ دنیا سے گھبرا کے تمہیں دل نے پکارا ہے
تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستورِ وفا کیا ہے
نجانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئیں ہم سے
نہ ہے فریاد ہونٹوں پہ، نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں ڈھالا ہے
بہزاد لکھنوی
No comments:
Post a Comment