Thursday, 7 January 2016

کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے

کہاں ہو تم، چلے آؤ، محبت کا تقاضا ہے
غمِ دنیا سے گھبرا کے تمہیں دل نے پکارا ہے
تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستورِ وفا کیا ہے​
نجانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئیں ہم سے
تمہیں دیکھا، تمہیں چاہا، قصور اس کے سوا کیا ہے
نہ ہے فریاد ہونٹوں پہ، نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں ڈھالا ہے​

بہزاد لکھنوی

No comments:

Post a Comment