Thursday, 7 January 2016

زمانے بھر کی شناسائیاں ہیں ایک طرف

زمانے بھر کی شناسائیاں ہیں ایک طرف
جو اس نے دی ہیں وہ تنہائیاں ہیں ایک طرف
روش وہی ہے میرے دل شکن زمانے کی
کسی کی حوصلہ افزائیاں ہیں ایک طرف
میں سب کی فتح میں خود کو شریک رکھتا ہوں
میرے نصیب کی پسپائیاں ہیں ایک طرف
میں اپنی ذات میں تنہا ہوں، اور بڑا تنہا
میری سب انجم آرائیاں ہیں ایک طرف
میں دیکھ سکتا ہوں منظر کو بند آنکھوں سے
مجھے ملی ہیں جو بینائیاں ہیں ایک طرف
تمام جاگتے منظر ہیں ایک سمت نسیمؔ
اور ایک خواب کی پرچھائیاں ہیں ایک طرف

نسیم سحر

No comments:

Post a Comment