Tuesday, 14 July 2020

تاروں کی گرد صبح کا ہنگام ہی تو ہے

تاروں کی گرد، صبح کا ہنگام ہی تو ہے
مل کر گزار لیجۓ اک شام ہی تو ہے
ہر پل کسی خیال کی حیرت کو سوچنا
یہ شاعری ہمارے لیے کام ہی تو ہے
پہلے مزاجِ یار کے تیور تو دیکھ لیں
پھر دیکھ لیں گے گردشِ ایام ہی تو ہے
آورد" اور عرصۂ "آمد" کے درمیاں"
جو کچھ لکھا گیا ہے وہ الہام ہی تو ہے
یوں بھی ہزار طرح کے الزام ہم پہ ہیں
تُو بھی ہمارے سر سہی الزام ہی تو ہے
اے حُسنِ یار!! تیرے تغافل کی خیر ہو
بے چینیوں میں بھی ہمیں آرام ہی تو ہے
پھر بھی بقدرِ ظرف پہنچتا ہے سب کے پاس
کہنے کو اس کے ہاتھ میں اک جام ہی تو ہے
آغاز کی خبر ہی نہیں ہے ہمیں تو پھر
جس حال میں رواں ہیں یہ انجام ہی تو ہے
تم نے اسے سنا ہی نہیں غور سے کبھی
یہ خامشی بھی اصل میں کہرام ہی تو ہے
وہ جو کسی کی بات نہیں مانتا سلیم
دیکھیں تو بھیج کر اسے پیغام ہی تو ہے

سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment