صبح سے چاک بھی ہو دامنِ شب ضد ہے اسے
عین ماتم میں سجے بزمِ طرب ضد ہے اسے
خود ہر اک بات سے واقف ہے مگر اوروں کو
کچھ نہیں جاننے دیتا، یہ عجب ضد ہے اسے
بات اپنوں کی پکڑ لے تو کہاں چھوڑتا ہے
سر اگر خم ہے تو محفوظ خمِ تیغ سے ہے
اور اگر زیرِ سپر ہے تو غضب ضد ہے اسے
سن کے قاصد نے کہا میری دلیلیں خورشیؔد
خیر جو پہلے نہیں بھی تھی تو اب ضد ہے اسے
خورشید رضوی
No comments:
Post a Comment