Wednesday, 15 July 2020

وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا

وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہوا 
انہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہوا 
ستارۂ سحری کا بھروسہ مت کیجو 
نئے سفر میں یہ رخت سفر پرانا ہوا 
نہ جانے کون سی آتش میں جل بجھے ہم تم 
یہاں تو جو بھی ہوا ہے درون خانہ ہوا 
کچھ اس طرح سے وہ شامل ہوا کہانی میں 
کہ اس کے بعد جو کردار تھا فسانہ ہوا 
اسی ستارے نے بھٹکا دیا سرِ منزل 
سفر پہ جو مری تحویل میں روانہ ہوا 
سنا ہے تجھ کو تو ہم یاد بھی نہیں آتے 
یہ "امتحاں" تو نہیں یہ تو "آزمانا" ہوا 
ہمیں تو عشق مقدر ہے جیسے رزق سلیم
سو چل پڑیں گے جہاں اپنا آب و دانہ ہوا

سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment