شہر میں کس سے سخن رکھیۓ، کدھر کو چلیۓ
اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیۓ
اتنا بے حال بھی ہونا کوئی اچھا تو نہیں
اب وہ کس حال میں ہے اس کی خبر کو چلیۓ
یاں جو نقشِ کفِ پا ہے سو بساطِ جاں ہے
دل بھی شعلے کی طرح اپنی ہوا میں گم ہے
رقص کرتے ہوئے اک بار ادھر کو چلیۓ
در و دیوار سے راتوں کو صدا آتی ہے
صبح سے پہلے کسی اور نگر کو چلیۓ
مصلحت حلقہ کناں رہتی ہے اس کے اطراف
کس توقع پہ وہاں اپنی بسر کو چلیۓ
پھر کسی نام کی اک شام سرِ بام آئی
دل کی یہ ضد ہے کہ بس ایک نظر کو چلیۓ
ہر طرف ایک سا عالم ہے جہاں بھی رکیے
ہر طرف ایک سی گردش ہے جدھر کو چلیۓ
دل سرائے میں دیا شام کو جلتے ہیں نصیر
کوئی کہتا ہے کہیں سیر و سفر کو چلیۓ
نصیر ترابی
No comments:
Post a Comment