Wednesday, 15 July 2020

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا

ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا
ہم سبک ہو جائینگے تجھ کو گراں ہو جائے گا
جب بہار آ کر گزر جائے گی اے سَروِ بہار
ایک رنگ اپنا بھی پیوندِ خزاں ہو جائے گا
ساعتِ ترکِ توقع بھی قریب آ ہی گئی
کیا یہ اپنا سب تعلق رائیگاں ہو جائے گا
یہ ہوا سارے چراغوں کو اڑا لے جائے گی
رات ڈھلنے تک یہاں سب کچھ دھواں ہو جائے گا
اس ہوا میں اپنی راتوں سے بھی کچھ وعدے کرو
بے چراغو! آخر ایسا کیا زیاں ہو جائے گا
چشم و دل کی راہ میں کچھ بستیاں آباد ہیں
رفتہ رفتہ ایک دریا درمیاں ہو جائے گا
ایک سیلاب آ رہا ہے بند باندھو ورنہ پھر
شہر والو! شہر یہ بے خانماں ہو جائے گا
دل زدو! ان بے شجر رستوں کو طے کرتے رہو
کوئی ابرِ مہرباں بھی سائباں ہو جائے گا
شاخِ وِیراں پھر نمو ساماں ہوئی دیکھو نصیر
پھر رواں اک کاروبارِ آشیاں ہو جائے گا

نصیر ترابی

No comments:

Post a Comment