یہ شرط ہے دستک ہو اگر دستِ یقیں سے
در چھوڑ کے دیوار بھی کھل جائے کہیں سے
افلاک کو تکتی ہے عبث چشمِ سحر جُو
سورج نے بہر طور نکلنا ہے زمیں سے
پونچھے مِری آنکھوں کے لرزتے ہوئے آنسو
تھی ہجر کے رستے میں کہیں وصل کی منزل
ہم نے تیری دوری کو بھی دیکھا ہے قریں سے
اب اتنے دنوں بعد جو نکلا ہے تو سورج
لائے مِری گم کردہ بصارت بھی کہیں سے
اتریں گے پیمبر، نہ فرشتے، نہ صحیفے
کس بات پہ روٹھا ہے خدا اہلِ زمیں سے
لگتا ہے کہ سچ مچ کہیں موجود ہے دنیا
ہم وہم بھی کرتے ہیں تو کرتے ہیں یقیں سے
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment