ہم قرار کیا پاتے وحشتوں کے موسم میں
اس نے دور ہونا تھا، بارشوں کے موسم میں
رات زندگی بھر کی کاٹ دی ہے آنکھوں میں
خواب کوئی دیکھا تھا رتجگوں کے موسم میں
بھیگتی رُتوں میں ہم بے سبب نہیں روتے
بے طلب رُتوں میں تھی تیری جستجو جن کو
دور تجھ سے رہتے ہیں خواہشوں کے موسم میں
کوئی جھیل سکتا ہے بے امان رُت میں بھی
وہ جو ہم پہ گزری ہے راحتوں کے موسم میں
جس طرح کہ بارش میں دھوپ بھی نکلتی ہے
ہو سکے تو ہنس دینا آنسوؤں کے موسم میں
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment