Wednesday, 15 July 2020

ہم قرار کیا پاتے وحشتوں کے موسم میں

ہم قرار کیا پاتے وحشتوں کے موسم میں
اس نے دور ہونا تھا، بارشوں کے موسم میں
رات  زندگی بھر کی کاٹ دی ہے آنکھوں میں
خواب کوئی دیکھا تھا رتجگوں کے موسم میں
بھیگتی رُتوں میں ہم بے سبب نہیں روتے
بارشیں تو ہوتی ہیں بارشوں کے موسم میں
بے طلب رُتوں میں تھی تیری جستجو جن کو
دور تجھ سے رہتے ہیں خواہشوں کے موسم میں
کوئی جھیل سکتا ہے بے امان رُت میں بھی
وہ جو ہم پہ گزری ہے راحتوں کے موسم میں
جس طرح کہ بارش میں دھوپ بھی نکلتی ہے
ہو سکے تو ہنس دینا آنسوؤں کے موسم میں

سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment