رنگ برسے ہیں جو برساتوں میں
معجزے' ہوتے ہیں 'سناٹوں' میں'
تجھ سے مل کر بھی میں اداس رہی
سرد 'موسم' تھے 'ملاقاتوں' میں
ایک 'تارہ' جو کہیں 'ٹوٹا' ہے
ہے میرے حال سے واقف جو خدا
لب نہ 'ہلتے' ہیں 'مناجاتوں' میں
شہر' سے تیرے 'گزرنا' ہو گا'
تُو جو مل جائے اگر راہوں میں
وہ مجھے ڈھونڈنے کو نکلا ہے
پی' کہاں بولتا ہے 'باغوں' میں'
سامنے' تھا تو 'پوچھتے' نہ بنا'
آج' موجود ہے 'سوالوں' میں'
تم سے غمخوار بھی نہ دیکھے تھے
زہر جو دے گئے ہیں پیالوں میں
شائستہ مفتی
No comments:
Post a Comment