Thursday, 19 November 2020

چہرے وہی ہیں پھر بھی دیکھو نام بدلتے رہتے ہیں

 چہرے وہی ہیں پھر بھی دیکھو نام بدلتے رہتے ہیں

یہ لوگ جھوٹی دنیا کے صبح شام بدلتے رہتے ہیں

ہم درد کے ماروں کا دن رات تماشہ ہوتا ہے

آغاز بدلتے رہتے ہیں، انجام بدلتے رہتے ہیں

کچھ لوگ ہیں جن کی چاہت میں ہر پَل دل تڑپتا ہے

وہ لوگ دل کی دنیا میں قیام بدلتے رہتے ہیں

ہم خون کے دِیے جلا جلا کر پوجا جن کو کرتے ہیں

وہ دل کے سارے جذبوں کے دام بدلتے رہتے ہی

اِس بات کا رونا ہے کہ وہ چپ چاپ ہمیں چھوڑ گیا

دنیا میں تو لوگ ساجد سرِعام بدلتے رہتے ہیں


ساجد اعوان

No comments:

Post a Comment