Thursday, 19 November 2020

چاندنی رات میں ہر درد سنور جاتا ہے

 چاندنی رات میں ہر درد سنور جاتا ہے

جانے کیا کیا سرِ احساس بکھر جاتا ہے

دیکھتے ہم بھی ہیں کچھ خواب مگر ہائے رے دل 

ہر نئے خواب کی تعبیر سے ڈر جاتا ہے

موت کا وقت معین ہے تو پھر بات ہے کیا

کون ہے مجھ میں جو ہر سانس پہ مر جاتا ہے

دل میں گڑ جاتی ہے جب ساعتِ ماضی کی صلیب

وقت رک جاتا ہے، انسان گزر جاتا ہے


عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment