کوئی فضائے آہ و فغاں میں نہیں رہا
اس بے سکون دل کے جہاں میں نہیں رہا
اتنا نہیں کہ صرف مری ماں نہیں رہی
میں اب خدا کے حفظ و اماں میں نہیں رہا
اس دکھ پہ میرے ساتھ پرندے شریک ہیں
اک پیڑ تھا جو میرے مکاں میں نہیں رہا
مجھ کو فروخت کر کے خسارہ ہوا اسے
ساماں جو قیمتی تھا دُکاں میں نہیں رہا
تم تھے تو خیر و شر کی سمجھ بوجھ تھی ہمیں
اب کوئی لطف سود و زیاں میں نہیں رہا
کوئی جہاں پہ آج ہے کل تھا وہاں کوئی
یعنی فلاں میں جو ہے فلاں میں نہیں رہا
اک سبز ہاتھ چھو گیا مقداد اس طرح
جھڑنے کا خوف ہم کو خزاں میں نہیں رہا
مقداد احسن
Bht khoob...
ReplyDelete