تم نے دیکھی ہے پہاڑوں پہ برستی بارش
چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش
کیسی بِن مول برستی ہے یہ کہساروں پہ
یونہی بِن مول برس جاتی ہے رخساروں پہ
تم نے دیکھی ہے صبیح رخ پہ برستی بارش
چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش
کوئی اب آنکھ ملائے تو ملائے کیسے
جانے والا تو گیا اس کو بلائے کیسے
تم نے دیکھی ہے بے رنگی برستی بارش
چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش
کتنے نازک سے دلوں کو یہ مسل دیتی ہے
کانچ سے خوابوں کو آنکھوں میں کچل دیتی
کتنی بے رحم ہے یادوں کی برستی بارش
چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش
سلمیٰ سید
No comments:
Post a Comment