Saturday, 5 December 2020

‏تم نے دیکھی ہے پہاڑوں پہ برستی بارش

 ‏تم نے دیکھی ہے پہاڑوں پہ برستی بارش

‏چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش


‏کیسی بِن مول برستی ہے یہ کہساروں پہ

‏یونہی بِن مول برس جاتی ہے رخساروں پہ

‏تم نے دیکھی ہے صبیح رخ پہ برستی بارش

‏چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش


کوئی اب آنکھ ملائے تو ملائے کیسے

‏جانے والا تو گیا اس کو بلائے کیسے

‏تم نے دیکھی ہے بے رنگی برستی بارش

‏چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش


‏کتنے نازک سے دلوں کو یہ مسل دیتی ہے

‏کانچ سے خوابوں کو آنکھوں میں کچل دیتی

‏کتنی بے رحم ہے یادوں کی برستی بارش

‏چاہ کی پیاس میں دیوانی ترستی بارش


‏سلمیٰ سید

No comments:

Post a Comment