آج بھی میں نے یادوں کی الماری کھولی
سامنے والے شیلف میں سب سامان پڑا تھا
ست رنگے ریشم کے دھاگے
الجھے سلجھے رشتوں کی رنگین قبائیں
کڑوے اور کسیلے کچھ بے درد رویے
الھڑ سپنے
قسمت کی پتھریلی تختی پر لکھی انمٹ تعبیریں
اور کسی کے ہجر کی گٹھڑی
باہر سب سامان نکالا
جھاڑا پونچھا
پھر رکھ ڈالا
آنکھ میں جگنو جب چمکیں گے
پلکوں پر تارے دمکیں گے
یہ الماری تب کھولوں گا
سلمان باسط
No comments:
Post a Comment