Saturday, 5 December 2020

یادوں کی الماری کھولی

آج بھی میں نے یادوں کی الماری کھولی

سامنے والے شیلف میں سب سامان پڑا تھا

ست رنگے ریشم کے دھاگے

الجھے سلجھے رشتوں کی رنگین قبائیں

کڑوے اور کسیلے کچھ بے درد رویے

الھڑ سپنے

قسمت کی پتھریلی تختی پر لکھی انمٹ تعبیریں

اور کسی کے ہجر کی گٹھڑی

باہر سب سامان نکالا

جھاڑا پونچھا

پھر رکھ ڈالا

آنکھ میں جگنو جب چمکیں گے

پلکوں پر تارے دمکیں گے

یہ الماری تب کھولوں گا


سلمان باسط

No comments:

Post a Comment