Saturday, 5 December 2020

آدھا جیون بیتا آہیں بھرنے میں

 آدھا جیون بِیتا آہیں بھرنے میں

آدھی عمر توازن قائم کرنے میں

آئینہ بےچارہ خود ہے زنگ آلود

بجھ جائے گا چہرے روشن کرنے میں

دنیا تو پتھر ہے، پتھر کیا جانے

کتنے آنسو چیخ رہے ہیں جھرنے میں

اک پُل جوڑ رہا ہے دو دنیاؤں کو

اک پَل حائل ہے جینے اور مرنے میں

ایک صحرا اور ایک جزیرہ حائل ہے

ڈوبنے اور سمندر پار اترنے میں

مرنے والا دیکھ رہا تھا سب ناٹک

سب مصروف تھے اپنی جیبیں بھرنے میں


شبنم رومانی

No comments:

Post a Comment