Tuesday, 2 March 2021

میری خواہش بہتا پانی

 میری خواہش بہتا پانی

میری قسمت ٹھہرا پانی

جس برتن میں ڈالو اس کو

ہو جاتا ہے ویسا پانی

کچی چھت پر ٹوٹ کے برسا

بے حِس، بہرا، اندھا پانی

اس نگری میں دام نہ پوچھو

سستا خون ہے، مہنگا پانی

اپنے عکس سے شرمندہ ہیں

پانی ہم کو کر گیا پانی


ناصرہ زبیری

No comments:

Post a Comment