Saturday, 19 June 2021

تمام شہر ہی تیری ادا سے قائم ہے

 تمام شہر ہی تیری ادا سے قائم ہے

حصولِ کارگہِ غم دعا سے قائم ہے

تسلسل اس کے سوا اور کیا ہو مٹی کا

یہ ابتدا بھی مِری انتہا سے قائم ہے

خدا وجود میں ہے آدمی کے ہونے سے

اور آدمی کا تسلسل خدا سے قائم ہے

تمام جوشِ محبت تمام حرص و ہوس

وفا کے نام پہ ہر بے وفا سے قائم ہے

یہ فاصلہ فقط ایک ریت کی نہیں دیوار

تِرے وجود سے میری انا سے قائم ہے


تالیف حیدر

No comments:

Post a Comment