عکسِ زنجیر پہ جاں دینے کے پہلو دوں گا
کچھ سزا تجھ کو بھی اے شاہدِ گیسو دوں گا
اپنے گھر سے تجھے جانے نہیں دوں گا خالی
مجھ کو ہیرے نہیں حاصل ہیں تو جگنو دوں گا
زندگی تجھ سے یہ سمجھوتہ کیا ہے میں نے
بیڑیاں تُو مجھے دے میں تجھے گھنگرو دوں گا
میں ہوں دریا مجھے خدمت میں لگے رہنا ہے
میں اگر سُوکھ بھی جاؤں گا تو بالو دوں گا
میں تو اک پیڑ ہوں چندن کا مجھے جسم نہ جان
تُو مجھے قتل بھی کر دے گا تو خوشبو دوں گا
پہلے کچھ بانٹ اصولوں کے بنا لو تسنیم
جس میں کردار تُلیں میں وہ ترازو دوں گا
تسنیم فاروقی بھوپالی
No comments:
Post a Comment