تیری آواز کے پتھر سے بچائی میں نے
یہ خاموشی کے جو مشکل سے کمائی میں نے
مشغلے دو ہیں میری جان فقط دو میرے
شاعری کی ہے کبھی کی ہے سلائی میں نے
پھول ہوتا تو اسے چھوڑ چکا ہوتا میں
شاہزادی تیری تھامی ہے کلائی میں نے
اب میری کھال سرِ عام تو کھنچوائے گا
بادشاہا! تیری پوشاک بنائی میں نے
دل میں جو کچھ ہے اُسے راکھ میں کرتا لیکن
اس انگیٹھی میں نہیں آگ جلائی میں نے
دیکھنے کے لیے اس وقت کے پس منظر کو
آنکھ بہتے ہوئے منظر میں بہائی میں نے
آصف رشید اسجد
No comments:
Post a Comment