Saturday, 14 August 2021

لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیا

 لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیا

آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی دنیا

جب نظر نامۂ اعمال کے دفتر پہ پڑی

نیکیوں پر مجھے ابھری نظر آئی دنیا

ظاہری آنکھوں سے دیکھو تو دکھائی دے پہاڑ

باطنی آنکھوں سے دیکھو تو ہے رائی دنیا

یہ قدم تیرے تعاقب میں چلے ہیں کتنا

یہ بتائے گی مِری آبلہ پائی دنیا

جتنے دکھ درد تحائف میں دیئے ہے تو نے

لے کے آئے گی ازل سب کی دوائی دنیا

فیض جو پھرتی ہے خود خانہ بدوشوں کی طرح

کیا کرے گی وہ میری راہ نمائی دنیا


فیض خلیل آبادی

No comments:

Post a Comment