Wednesday, 11 August 2021

عاشور کا ڈھل جانا صغرا کا وہ مر جانا

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ شہدائے کربلا


عاشور کا ڈھل جانا، صغراؑ کا وہ مر جانا

اکبرؑ تِرے سینے میں، برچھی کا اُتر جانا

اے خونِ علی اصغرؑ میدانِ قیامت میں

شبیرؑ کے چہرے پر کچھ اور نکھر جانا

سجادؑ یہ کہتے تھے، معصوم سکینہؑ سے

عباسؑ کے لاشے سے چپ چاپ گزر جانا

ننھے سے مجاہد کو ماں نے یہ نصیحت کی

تیروں کے مقابل بھی، بے خوف و خطر جانا

محسن کو رُلائے گا، تا حشر لہو اکثر

زہراؑ تیری کلیوں کا صحرا میں بکھر جانا


محسن نقوی

No comments:

Post a Comment