عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ شہدائے کربلا
عاشور کا ڈھل جانا، صغراؑ کا وہ مر جانا
اکبرؑ تِرے سینے میں، برچھی کا اُتر جانا
اے خونِ علی اصغرؑ میدانِ قیامت میں
شبیرؑ کے چہرے پر کچھ اور نکھر جانا
سجادؑ یہ کہتے تھے، معصوم سکینہؑ سے
عباسؑ کے لاشے سے چپ چاپ گزر جانا
ننھے سے مجاہد کو ماں نے یہ نصیحت کی
تیروں کے مقابل بھی، بے خوف و خطر جانا
محسن کو رُلائے گا، تا حشر لہو اکثر
زہراؑ تیری کلیوں کا صحرا میں بکھر جانا
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment