Saturday, 7 August 2021

زمانے بھر نے ستم ہم پہ ڈھائے ہیں کیا کیا

 زمانے بھر نے ستم ہم پہ ڈھائے ہیں کیا کیا

جنونِ ضبط میں صدمے چھپائے ہیں کیا کیا

بدل کہ کروٹیں ہر پل تجھے ہی یاد کیا

شبِ فراق میں ہم تلملائے ہیں کیا کیا

تلاش زیست میں ہم نے گنوا دیا خود کو

دیارِ غیر میں آنسو بہائے ہیں کیا کیا

تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ روشنی کے لیے

چراغ خونِ جگر سے جلائے ہیں کیا کیا

تمہارے دم سے تھا آباد میرا دل جاناں

تمہارے جانے سے طوفان آئے ہیں کیا کیا

یہ جان و دل تِری خاطر لٹا دئیے ہم نے

تقاضے اپنی وفا کے نبھائے ہیں کیا کیا

جہان چھان لیا کچھ خبر نہیں اس کی

نشان تُو نے زمانے مٹائے ہیں کیا کیا

تمہارے سانچے میں خود کو جو ڈھالنے کو کہا

تو کوزہ گر نے بہانے بنائے ہیں کیا کیا

فہیم ٹوٹ کے بکھرا میں خاک میں جس دم

ہوا نے خاک کے ذرے اڑائے ہیں کیا کیا


محمد فہیم

No comments:

Post a Comment