عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
حسینؑ زندہ آج بھی
سکھاتی ہے یہ کربلا، حسینؑ زندہ آج بھی
کہ ہے بنائے لا الٰہ، حسینؑ زندہ آج بھی
ؐحسینؑ نُورِ مرتضیؑ، حسین ابنِ مصطفےٰ
حسینؑ دین کی بقا، حسینؑ زندہ آج بھی
یزید مٹی جوگا تھا،۔ یزید مٹی ہو گیا
حسینؑ کل بھی زندہ تھا، حسینؑ زندہ آج بھی
یزید مرنے جوگا تھا، سو مر کے مٹی ہو گیا
نہ سر کٹا کے بھی مَرا، حسینؑ زندہ آج بھی
زمانہ کل بھی کہتا تھا، کہے زمانہ آج بھی
کہے گا کل بھی برملا، حسینؑ زندہ آج بھی
حسینؑ مجھ سے میں حسینؑ سے، نبیؐ نے کہہ دیا
ہے کُل سے جُزو کب جدا؟ حسینؑ زندہ آج بھی
حسینؑ پر سلام دانش اس یقین سے کہا
حسینؑ نے ہے خود سُنا، حسینؑ زندہ آج بھی
ذوالفقار دانش
No comments:
Post a Comment