عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا
کربلا کے جاں نثاروں کو سلام
فاطمہؑ زہرا کے پیاروں کو سلام
یا حسینؑ ابنِ علیؑ مشکل کشا
آپ کے سب جاں نثاروں کو سلام
اکبرؑ و اصغرؑ پہ جاں قربان ہو
میرے دل کے تاجداروں کو سلام
قاسمؑ و عباسؑ پر لاکھوں درود
کربلا کے شہسواروں کو سلام
بھوکی پیاسی بِیبیوں پر ہوں درود
بھوکے پیاسے گلعزاروں کو سلام
بھید کیا جانے شہادت کا کوئی
ان خدا کے رازداروں کو سلام
بِیبیوں کو عابدِ بیمار کو
بیکسوں کو سب بچاروں کو سلام
ہو گئے قرباں محمدؑ اور عونؑ
سیدہ زینبؑ کے پیاروں کو سلام
کربلا میں ظلم کے ٹُوٹے پہاڑ
جن پہ ان سب دلفگاروں کو سلام
تین دن کے بھوکے پیاسے یا نبیؐ
آپؐ کی آنکھوں کے تاروں کو سلام
جو حسینی قافلے میں تھے شریک
کہتے ہیں ہم دل سے ساروں کو سلام
نامعلوم
No comments:
Post a Comment