Wednesday, 11 August 2021

جنگ کے میداں کو جب سرور چلے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 جنگ کے میداں کو جب سرور چلے

ہر طرف بھالے گڑے، خنجر چلے

دھوپ کے صحرا کا منظر الاماں

اوڑھ کر تطہیر کی چادر چلے

اف رے آلِ مصطفٰیؐ پر یہ ستم

بیڑیوں میں پھول سا عابدؑ چلے

سُن کے سیتل! کربلا کا سانحہ

سینکڑوں خنجر میرے دل پر چلے


ترلوک سنگھ سیتل

No comments:

Post a Comment