عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
کِیا ہے فتح دو عالم کو ایسی شانِ حسینؑ
نہ داستاں ہے کوئی مثل داستانِ حسینؑ
سہا ہے جس نے ستم وہ ہے خاندانِ رسول
بہا ہے جس کا لہو وہ ہے خاندانِ حسینؑ
ہمیشہ ہوتی ہے باطل کو ہی شکست نصیب
ہوئے ذلیل دو عالم میں دشمنانِ حسینؑ
سُنا ہے سر کو پٹختے ہوئے فُرات کا درد
وہ گریہ جب کے سسکتا تھا کاروانِ حسینؑ
جہاد کرتا ہوا، نفرتوں کے نیزوں سے
نکل پڑا ہے محبت کو کاروانِ حسینؑ
نامعلوم
No comments:
Post a Comment