Sunday, 19 September 2021

درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں ہو سکتا

 درد ہمدرد سے پیارا تو نہیں ہو سکتا

آپ کے ساتھ گزارہ تو نہیں ہو سکتا

آپ دلکش ہیں، دل فریب بھی ہیں

دیکھیۓ عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا

یا تو آغازِ سفر میں ہی پلٹ جانا تھا

بیچ دریا میں کنارہ تو نہیں ہو سکتا

مالکِ کُل کو بنایا گیا تھا ان میں گواہ

ایسی قسموں کا کفارہ تو نہیں ہو سکتا

اپنی تنہائی کو رنگین بنانے کے لیے

اس کا نقصان گوارہ تو نہیں ہو سکتا


سلمیٰ سید

No comments:

Post a Comment