Friday, 17 December 2021

گو مجھے زیست نے آرام سے رہنے نہ دیا

 گو مجھے زیست نے آرام سے رہنے نہ دیا

اشک آنکھوں سے مگر ایک بھی بہنے نہ دیا

ہم الٹتے ہی رہے روئے منور سے نقاب

شام سے تا بہ سحر چاند کو گہنے نہ دیا

تابِ نظارۂ معشوق کہاں عاشق کو؟

طور پر ہوش میں موسیٰ کو بھی رہنے نہ دیا

کر دیا چپ بتِ کافر نے اشارہ کر کے

داورِ حشر سے کچھ بھی مجھے کہنے نہ دیا

ہر گھڑی ہاتھ میں رکھا ہے قفس کو جوہر

مجھ کو تنہا کبھی صیاد نے رہنے نہ دیا


جوہر دیوبندی

No comments:

Post a Comment