Friday, 17 December 2021

تھے تیرہ بخت ہی شمع وفا جلا کر بھی

 تھے تِیرہ بخت ہی شمعِ وفا جلا کر بھی

کہ تِشنہ لب ہی رہے ہم تو چشمہ پا کر بھی

زمانے! چھوڑ، تیری مُنصفی بھی دیکھ چُکا

کہ پائے غم سدا میں نے خوشی لُٹا کر بھی

نہ اپنے بخت کے گرداب سے نکل پایا

چلا ہوں لاش کو میں اپنی خود اُٹھا کر بھی

ہمارے ظرف سے نہ کھیل، اے غمِ دوراں

ملے گا تجھ کو سکون کیا ہمیں رُلا کر بھی

سمانا! شہرِ خموشاں ہے،۔ چُپ رہو للہ

سکون راس نہیں تم کو جاں سے جا کر بھی


شہزاد سمانا

No comments:

Post a Comment