Friday, 10 December 2021

بجلیوں کا وہی نشانہ ہے

 بجلیوں کا وہی نشانہ ہے

وہ شجر جس پہ آشیانہ ہے

کیوں بڑھائی گئی سزا میری

کیا مِرا جرم مسکرانا ہے؟

شیخ کی پارسائی کی مانند

تیری نظروں کا تازیانہ ہے

میں سمجھ ہی نہ پایا آخر تک

اس کا انداز دوستانہ ہے

مسکرانے سے التفات گیا

اس سے بہتر تو روٹھ جانا ہے

پہلے قیدِ قفس میں تھی بلبل

اب وہ پابندِ آب و دانہ ہے

چشمِ گریاں سے ہو گیا ظاہر

دل کا موسم بہت سہانا ہے


عاطف علی

No comments:

Post a Comment