نبھاتے نبھاتے تھک گئے ہم
یہ رشتے ناطے، یہ دُنیا داری
کہو
اب بساتے ہیں یہ رشتہ خود سے
یہ دنیا اپنی
یہ ہنسنا خود پہ
یہ چھپانا خود سے
یہ بہکنا خود سے
یہ سنبھلنا خود سے
یہ اپنی دُھن میں
یہ یاری خود سے
ہاں
تھک گئے ہم نبھاتے نبھاتے
یہ رشتے ناطے یہ دُنیا داری
عندلیب سحرش
No comments:
Post a Comment