جو بھی جائز ہے محبت میں وہ سب کرتا ہوں
پہلے جو کام نہیں کرتا تھا، اب کرتا ہوں
بادشاہ سوچتا ہے روز میرے بارے میں
آج دربار لگاتا ہوں،۔ طلب کرتا ہوں
تیرے سب دوستوں کو سر پہ بٹھا رکھا ہے
تیرے کُتوں کا بھی میں کتنا ادب کرتا ہوں
ساری دنیا کو پتہ ہے، تُو میری دنیا ہے
پر میں یہ بات تیرے سامنے کب کرتا ہوں
ابھی دشمن نے میرا نام سنا ہے زاہد
جنگ میں دیکھے گا میں کتنا غضب کرتا ہوں
زاہد بشیر
No comments:
Post a Comment