Tuesday, 21 December 2021

جو بیت گئی دل پر کب اس کی شکایت کی

 جو بیت گئی دل پر کب اس کی شکایت کی

اک موم کی گڑیا نے سورج سے محبت کی

پھولوں پہ یہ کیا رونا، برسات پہ کیا ہنسنا

اے عشقِ جنوں پرور حد ہوتی ہے وحشت کی

واقف ہی نہیں کوئی محشر سے مِرے دل کے

دیکھی ہے بھلا کس نے تصویر قیامت کی

لفظوں نے بنائے تھے کاغذ کے محل سارے

رکھی تھی ہواؤں پر بُنیاد عمارت کی

یوں عقل و خرد نے تو سمجھائی تھی کچھ باتیں

دل مان گیا تھا پر جذبوں نے بغاوت کی

جو ٹوٹ گئی کشتی ساحل سے ہی ٹکرا کے

وہ کیسے یہ کہہ دے کہ قائل نہیں قسمت کی

مانگی تھی محبت کی دن رات دعا جس نے

اس دل کو تمنا تھی دنیا کی نہ دولت کی

ہر خواب کُھرچتی ہوں میں اپنی اب آنکھوں سے

معلوم نہ تھا مجھ کو سب چال ہے فطرت کی

جینے کے طریقے تو تھے اور بہت اے دل

پھر تجھ کو یہ کیا سُوجھی کیوں اپنی یہ حالت کی

گم صم سی خلاؤں میں تکتی ہے نہ جانے کیا

ہنستی ہوئی وہ لڑکی ایسی نہ تھی عادت کی

پر پھول کی قسمت میں لکھا ہے بکھرنا کیوں

اب لوح و قلم جانیں کس نے یہ شرارت کی

تہذیب و تمدن میں اور شعر و ادب میں بھی

جِدت کو سدا لازم تعظیم روایت کی

گُم شوقِ ریاضت میں گُمنام رہی پنہاں

مصروفِ عبادت تھی بھوکی نہ تھی شہرت کی


ڈاکٹر سکینہ پنہاں

No comments:

Post a Comment