Friday, 10 December 2021

اشک پلکوں پہ ٹہرا کب ہے

 اشک پلکوں پہ ٹہرا کب ہے

تیری یادوں پہ پہرہ کب ہے

آہ مفلس کی اپنا حاکم

سن ہی لیتا ہے بہرہ کب ہے

کب جوانی و حسن رہتے ہیں

موت پر اپنا پہرہ کب ہے

وہ پہچانے کہ بھول جائے

اپنا بدلا یہ چہرہ کب ہے

بادشاہ بھی گدا ہوئے ہیں

اک جگہ وقت ٹہرا کب ہے

اس سے بچھڑے سنبھل گئے ہیں

زخم تازہ ہے گہرا کب ہے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment