اشک پلکوں پہ ٹہرا کب ہے
تیری یادوں پہ پہرہ کب ہے
آہ مفلس کی اپنا حاکم
سن ہی لیتا ہے بہرہ کب ہے
کب جوانی و حسن رہتے ہیں
موت پر اپنا پہرہ کب ہے
وہ پہچانے کہ بھول جائے
اپنا بدلا یہ چہرہ کب ہے
بادشاہ بھی گدا ہوئے ہیں
اک جگہ وقت ٹہرا کب ہے
اس سے بچھڑے سنبھل گئے ہیں
زخم تازہ ہے گہرا کب ہے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment